| آنکھ برسوں سے رو رہی ہے تجھے |
| زندگی اب بھی ڈھونڈتی ہے تجھے |
| ایک آہٹ سجا کے پلکوں پر |
| بوند پانی کی سوچتی ہے تجھے |
| دشت کا نا تمام کیوں ہے سفر |
| شب ستاروں کی پوچھتی ہے تجھے |
| چھوڑ آئے متاع جان کہیں |
| پھر بھی کیا ہم سے دشمنی ہے تجھے |
| ہر پلٹتی ہے نا مراد دعا |
| اے خدا دیکھ کیا کمی ہے تجھے |
| قلزم عشق میں گرا کے مجھے |
| مجھ سے کیسی یہ دوستی ہے تجھے |
| پر کشش ہے نظارہ دریا کا |
| ڈوبنے پر مرے خوشی ہے تجھے |
| شہر سارا ہے میزباں اپنا |
| اک نگہ پھر بھی دیکھتی ہے تجھے |
| جل رہا ہے مکاں چراغوں سے |
| آہ شاہد کی لگ گئی ہے تجھے |
معلومات