ہم جکڑ سے گئے اداوں میں
آگئے آپ کی پناہوں میں
وصل کی بات کر سکوں ان سے
آتے رہتے کبھی جو خوابوں میں
پا لیا جن کو دل نے ہے آخر
بس گئے وہ مری نگاہوں میں
ہو اگر سوچ گہری ہی پھر تو
رہتی منزل ہے آسمانوں میں
قوم میں انقلاب تب آئے
فکر پیدا ہو جب جوانوں میں
اشک بیکار جا نہیں سکتے
رہتی تاثیر خوب آنہوں میں
عار محسوس ہو ہمیں ناصؔر
آئے بدمزگی بھی گناہوں میں

0
46