| ہے طرزِ صُوفِیا جنوں، ہے طورِ اصفیا جنوں |
| وصف ہے عالیہ جنوں، رفعتِ اولیا جنوں |
| عشق کی ابتدا فنا، عشق کی انتہا جنوں |
| رازوں کا راز کھل گیا، عشق کی بقا جنوں |
| عشق جو پا لِیا فنا، تو وہ مکمل ہو گیا |
| اس کے ہے بعد مرحلہ، عشق وہ پائے گا جنوں |
| عشق میں گر فنا بھی ہے، عشق میں گر بقا بھی ہے |
| عشق کا قائدہ جنوں، عشق کا فائدہ جنوں |
| باتیں کریم کی کرم، ہوتی ہیں دل پہ جو رقم |
| باتیں ہیں راز کھولتی، دل پہ جو چڑھ گیا جنوں |
| نفس، انا کو ہار دے، عشق سے جب جنوں ملے |
| عشق کا وصف پاک ہے، جس کا ہے مرحلہ جنوں |
| کب ہے جنوں ذکیؔ فسوں، عشقِ حقیقی ہے جنوں |
| عشق پہ چھائے جب جنوں، پاتا ہے جب خدا جنوں |
معلومات