یہی دل ہے، یہی دل کی لگی ہے
کہ جس میں تیری خوشبو جا بسی ہے
مسافت کب کسی سے کم ہوئی ہے
یہی راہیں ہیں منزل بھی، وہی ہے
تری یادوں کا موسم چل پڑا ہے
ہواؤں میں عجب سی بے کلی ہے
مسلسل ایک سایہ ساتھ ہے کیوں
یہی میں ہوں، یہی میری کمی ہے
تری چاہت سے وابستہ ہے یہ دل
خوشی تیری میں ہی میری خوشی ہے
سنبھلنے کی بہت کوشش تو کی تھی
مگر پھر بھی وہی افسردگی ہے
یہ آنکھیں رات بھر کیوں جاگتی ہیں
کوئی خواہش کوئی دیوانگی ہے

0
16