ریت پر ساحل کی جیسے داستاں لکھتے رہے
آ کے لہریں دھو گئیں جو بھی زباں لکھتے رہے
تشنگی بڑھتی گئی، دریا بھی صحرا ہو گیا
ہم مگر آنکھوں کو موجِ بیکراں لکھتے رہے
عمر بھر لفظوں نے جس کو چھو لیا، وہ کم نہ تھا
درد کو ہم خامشی کا ترجماں لکھتے رہے
پڑھ نہ پایا کوئی بھی دل کی شکستہ لوح کو
لوگ عنوانوں کو ساری کہکشاں لکھتے رہے
ایک ہی دُھندلا سا چہرہ ہر طرف آیا نظر
ہم اسے ہر بار ہی اپنا گماں لکھتے رہے
ریت اڑتی تھی تو چہرے بھی بدل جاتے تھے سب
ہم ہوا کے نام اپنا کارواں لکھتے رہے
وقت کی بے رحم دھوپیں جسم کو جھلسا گئیں
دل کے اندر ایک ٹھنڈا سائباں لکھتے رہے
وہ سمندر بھی ہماری تشنگی سمجھا نہیں
جس کے سینے پر سفر کا امتحاں لکھتے رہے
طارِقؔ آخر رفتہ رفتہ لفظ گونگے ہو گئے
ہم مگر ہر سانس کو اپنا بیاں لکھتے رہے

0
7