| شہرِ جاناں میں وفا کے سب یہ وعدے ہیں سراب |
| دشتِ ہجراں میں مروت کے یہ چشمے ہیں سراب |
| ہنس کے ملتے ہیں بظاہر، دل میں رکھتے ہیں غبار |
| آج کل بازارِ الفت کے یہ چہرے ہیں سراب |
| مصلحت کی دھوپ نے، جھلسا دیے سارے شجر |
| اس غرض کے شہر میں خوں کے بھی رشتے ہیں سراب |
| اب محبت میں وہ پہلی سی کشش باقی نہیں |
| محض جسمانی ہوس کے سب یہ جذبے ہیں سراب |
| ہم انا کی ریت پر، بیٹھے ہیں تنہا اور بس |
| ذات کے صحرا میں گاڑے، سب یہ خیمے ہیں سراب |
| آرزوؤں کی طنابیں، کب تلک کھینچیں گے ہم |
| شاخِ امکاں پر کھلے جو، سب یہ غنچے ہیں سراب |
| سازِ ہستی پر جو گاتے، پھر رہے ہیں بے خبر |
| سوزِ باطن کے بنا تو سب یہ نغمے ہیں سراب |
| عمر ساری کٹ گئی ہے، در بدر کی خاک میں |
| منزلوں کا ذکر کیا ہے، سب یہ رستے ہیں سراب |
| لوگ ہنستے ہیں مری وحشت پہ تو ہنسنے بھی دو |
| میرے حق میں ان کے سارے تیر و طعنے ہیں سراب |
| پارسائی کا لبادہ، اوڑھ کر پھرتے ہیں لوگ |
| بے وضو نیت سے یارو، سب یہ سجدے ہیں سراب |
| مسندِ شاہی پہ جو مغرور، بیٹھے ہیں یہاں |
| خاک میں مل جائے گا سب، تاج و رتبے ہیں سراب |
| موت کی آغوش ہی اس دہر میں سچ ہے فقط |
| جان لے اے دل کہ دنیا کے یہ صدمے ہیں سراب |
| چھوڑ المیر ان منافق، بستیوں کو آج ہی |
| میٹھی میٹھی گفتگو اور سب یہ لہجے ہیں سراب |
معلومات