خلوص، پیار، محبت، اصول کی باتیں
انہیں بھلا دو، یہ اب ہیں فضول کی باتیں
بناوٹی ہے سجاوٹ چمن میں چاروں طرف
نہیں ہیں خار کہیں، صرف پھول کی باتیں
ہے کیا جسے نہ خریدا نہ بیچ ڈالا جائے
یہاں تو منصب و عصمت حصول کی باتیں
ملاوٹوں کا عجب دور ہے یہاں اب تو
جو کل گناہ تھی، اب ہیں قبول کی باتیں
جدید نسل مشینوں کی ہو گئی ہے اسیر
یہ بھول جائے نہ اللہ ، رسول کی باتیں
خبر کے نام پہ بکنے لگے ہیں سب کردار
ہوا میں گرد ہے جھوٹوں کی دھول کی باتیں
ضمیر بیچ کے کہتے ہیں سرخرو ہیں ابھی
کنول کی بات لگے ہے ببول کی باتیں