| ہر آن دل سے لیتا۔ ہے جو نام۔ پنج تن |
| ملتا ہے۔ ان کو بے بہا انعام پنج تن |
| داتا۔ بنا۔ ہے کوئی تو خواجہ کوئی بنا |
| جس کے بھی ہاتھ۔ آگیا ہے جام پنج تن |
| ڈٹ۔ جآو ظلم و جبر کے طوفان سامنے |
| آتا۔ ہے۔ کربلا سے۔ یہ پیغام پنج تن |
| ہوگا۔ نہ بے ادب۔ کبھی وہ چار یارکا |
| ڈالی۔ ہو جسنے۔ منھ پر لگا م پنج تن |
| آیا عتیق مجھ کو بھی سلام مصطفی |
| میرے۔ لبوں پہ آیا جب سلام پنج تن |
معلومات