غزل
غزّہ میں قتلِ عام تو جاری ہے آج بھی
انسانیت کہ شرم سے عاری ہے آج بھی
روشن خیال لوگ ہیں دَورِ جدید کے
ظلمت مگر ضمیر پہ طاری ہے آج بھی
بے فیض کائنات کو تسخیر کر لیا
سینہ مگر گداز سے عاری ہے آج بھی
نیزے پہ سَر بلند ہُوا کربلا میں جو
سُنت اُسی حسین کی جاری ہے آج بھی
حق بات پر جو مر مٹے وہ سرفراز ہیں
اِک سچ ہزار جھوٹ پہ بھاری ہے آج بھی
نیکی، بدی میں ایک تصادم اَزل سے ہے
حق پر ڈٹے ہیں جیت ہماری ہے آج بھی
دادِ سخن بہ شوق سمیٹو شہاب جی
محفل بہ قدرِ ذوق تمھاری ہے آج بھی
شہاب احمد
۸ مئی ۲۰۲۶

0
65