طریقِ عشق میں کیونکر سکوں نہیں ملتا
خرد تلاش بھی کر لے ، جنوں نہیں ملتا
یہ کیسی بستی ہے جس میں چراغ جلتے ہیں
دلِ غریب تو روشن دروں نہیں ملتا
ہزار آئینے رکھے ہیں ہم نے دنیا میں
کسی میں اپنا مگر عکسِ خوں نہیں ملتا
وہ ایک شخص جو خاموش رہ کے سنتا تھا
بچھڑ گیا تو یہ کس سے کہوں ، نہیں ملتا
ہمیں تو زخم بھی ملتے ہیں بے شمار مگر
کسی دوا میں اثر وہ فزوں نہیں ملتا
عجیب دور ہے، سچ بولنا بھی جرم ہوا
لبوں کو رنگ تو حق کے بدوں نہیں ملتا
جو اپنے آپ سے آگے نکل گیا وہ گیا
زمانہ اس کے لئے سر نگوں نہیں ملتا
میں اپنے خواب کی تعبیر ڈھونڈتا ہوں مگر
کتابِ وقت میں اس کا فسوں نہیں ملتا
یہ عشق صرف ملاقات تو نہیں طارقؔ
جہاں وصال ہو، حالِ زبوں نہیں ملتا

0
11