| پوچھتے ہیں جو مجھ سے سخنور ہو کیوں |
| دل کے اندر یہ بہتا سمندر ہو کیوں |
| جب نگاہوں میں آباد ہو تم ہی تم |
| سامنے دوسرا اور منظر ہو کیوں |
| پیار کی راہ میں دشمنی کیوں بھلا |
| اک ذرا سی خطا پر یہ محشر ہو کیوں |
| دوستی کا بھرم جب بکھرنے لگا |
| ہاتھ میں یار کے آج خنجر ہو کیوں |
| عقل والوں سے کہہ دو ذرا سوچ کر |
| عشق کی راہ میں کوئی رہبر ہو کیوں |
| مان لی ہم نے رب کی رضا جب تو پھر |
| غم ہمیں گردشِ بد مقدّر ہو کیوں |
| شادؔ جب مل گیا یار کا آستاں |
| در بدر، در بدر اک قلندر ہو کیوں |
معلومات