کتنے طوفان سہہ گیا ساحل
پھر بھی خاموش رہ گیا ساحل
بس ذرا دیر میں رکا تھا وہاں
داستاں کتنی کہہ گیا ساحل
پانی اترا تو پھر وہیں پہ ملا
لوگ کہتے تھے بہہ گیا ساحل
رفتہ رفتہ رواں ہوئی کشتی
صرف آنکھوں میں رہ گیا ساحل
عمر بھر دھوپ میں کھڑا تنہا
اپنا سایہ بھی کھو گیا ساحل
ذکر موجوں میں پھر چھڑا "شاعر"
حادثے کتنے سہہ گیا ساحل

0
3