| ذکرِ مجبوریِ حالات نہ کر، شعر سنا |
| دل! ابھی اور کوئی بات نہ کر، شعر سنا |
| زخمِ دل بھی ہے ابھی تازہ، رواں اشک بھی ہیں |
| رائیگاں، ہجر کی یہ رات نہ کر، شعر سنا |
| آج کی شام ہیں کل جانے کہاں ہوں گے ہم |
| دیکھ رسوائیِ جذبات نہ کر شعر سنا |
| ابھی تو رات ہے باقی سجی محفل بھی نہیں |
| ابھی سے جانے کی تو بات نہ کر شعر سنا |
| کون برباد ہوا کس نے کسے لوٹا یہاں |
| الٹے سیدھے تو سوالات نہ کر شعر سنا |
| زلفِ پُر پینچ کی الجھن سے اُلجھ کر پیارے |
| منتشر اپنے خیالات نہ کر شعر سنا |
| لکھ قصیدے کسی ظالم کی طرفداری میں |
| حاکمِ شہر سے حق بات نہ کر، شعر سنا |
| ایک مشترکہ یہی بات ہے ہم دونوں میں |
| ختم ملنے کے روایات نہ کر، شعر سنا |
| ہم سخنور ہیں سمجھتے ہیں اشاروں کی زباں |
| کوئی تمہید و مقالات نہ کر شعر سنا |
| رسمِ دنیا کو بدل دیکھ نئی راہ کوئی |
| یوں غمِ قحطِ مساوات نہ کر شعر سنا |
معلومات