| بدل گیا ہوں بہت تجھ سے مُلا قات کے بعد |
| میں خود کو ڈھونڈ رہا ہوں جو تیری بات کے بعد |
| یہ کون لوگ ہیں جو روشنی سے ڈرتے ہیں |
| چراغ کرتے ہیں گُل اک ذرا سی رات کے بعد |
| ہمیں بھی زخم رُلاتے رہے زمانے سے |
| قرار دل کو ہے ایمان کے ثبات کے بعد |
| جو اپنے آپ سے جیتا وہی سمجھ پایا |
| کہ اصل جنگ ہے انساں کی اپنی ذات کے بعد |
| یہ زندگی بھی عجب قرض ہے محبت کا |
| چکانا پڑتا ہے سانسوں کو بھی حیات کے بعد |
| سکون ڈھونڈتے پھرتے رہے زمانے میں |
| خبر ملی کہ سکوں ہے فقط نجات کے بعد |
| کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں ذخیرۂ الفاظ |
| کسی کا ذکر ہو کیسے تری صفات کے بعد |
| نظر میں تیری طرح کون معتبر ہوتا |
| ملا نہ کوئی ترے اتنے التفات کے بعد |
| یہ طارق اپنے ہی دل سے سوال کرتا ہے |
| کہ کیا بچا ہے محبّت کی وار دات کے بعد |
معلومات