نبی کے چاہنے والوں کے ہیں ولی حیدر
مری طلب سے بھی واقف مرے سخی حیدر
سمیٹنا تھا طہارت کو ایک مصرعے میں
کہا ! حسین ، حسن ، فاطمہ ، نبی ، حیدر
کسی نے مجھ سے شجاعت کی انتہا پوچھی
رواں زبان پہ خود ہو گیا علی حیدر
انہی کو شیرِ خدا کا لقب عطا ہوا ہے
وہی جو فاتح خیبر ہیں؟ ہاں! وہی حیدر
تو دستِ غیب نے خود آ کے دستگیری کی
مصیبتوں میں پکارا ہے جب کبھی حیدر
اور ان سے لیتے ہیں مہر و مہ و نجوم ضیاء
چراغِ مصطفوی کی ہیں روشنی حیدر
یوں خود کو پیش کیا بے خطر شبِ ہجرت
مثالی آپ کی ٹھہری سپردگی حیدر
سدا بھلائی رہی آپ کی معیت میں
ہمیشہ دور رہی آپ سے بدی حیدر
قمرؔ یہ راز کھلا کربلا کے میداں میں
ہیں اس گھرانے میں سارے ہی قدرتی حیدر
قمر آسیؔ

3