ہجومِ دنیا میں میرا پتا نہیں ملتا
صدائے دل کا کہیں بھی سرا نہیں ملتا
بھرا ہوا ہے مرا دل غمِ زمانے سے
مجھے سکوں کا بھی کوئی خلا نہیں ملتا
تعلقوں میں یہ کیسی تھکن سی طاری ہے
مری خطا پہ بھی کوئی خفا نہیں ملتا
سیاہی راتوں کی ہرگز کہیں نہیں جاتی
نئی سحر کا کہیں بھی دیا نہیں ملتا
ہمیں تو اپنی ہی بربادیوں کا ماتم ہے
ہمیں کسی سے بھی کوئی گِلا نہیں ملتا
زمیں پہ سجدہ گزاروں کی بھیڑ ہے لیکن
عقیدتوں میں تو کوئی خُدا نہیں ملتا
محبتوں کے زمانے کی بات سن اے شادؔ
وفا کریں بھی تو ہم کو صِلہ نہیں ملتا

0
2