1
کتابِ دل صَحیفہ ہے مُحبت کے اُصولوں کا
علاجِ دل اِسی میں ہے، یہ نُسخہ ہے رَسولوں کا
2
ہزاروں راز مَخفی ہیں کتابِ دل کے طاقوں میں
خُدا کا نقش ہے پِنہاں، اِسی کے ہی اوراقوں میں
3
کتابِ دل کے لفظوں میں کہانی ہے حقیقت کی
یہی بابِ ولایت ہے، یہی کُنجی طریقت کی
4
ازل سے فرض ہے مجھ پر تلاوتِ نفسِ خاکی کی
مگر درکار نَفَس ہے اور زُبانِ پاک ساقی کی
5
کتابِ دل کی ابجد کو ذرا سیکھو تو کامل سے
شناسا تم کو کر دے گا، حقیقت کے عوامل سے
6
کتابِ دل کو خالی کر، خیالوں سے، فَسانوں سے
اُسی کے نام کر اِس کو، جو قائم ہے زَمانوں سے
7
کتابِ دل کو لکھا ہے خُدا نے اپنے ہاتھوں سے
یہ اَسرارِ مُحبت ہے، نہیں کُھلتا یہ باتوں سے
8
یہ لکھا ہے خُدا نے کہ بہ ہر صورت عیاں ہوں میں
حُروفِ کُل جَہاں ہوں میں، نُقاطِ بے نِشاں ہوں میں
9
اَمَر میرا، ثَمر میرا، سَبھی زیر و زَبر میرا
قَلَم میرا، عَلَم میرا، مُحیطِ بحر و بَر میرا
10
بِنا ہوں میں خیالوں کی، جوابوں کی سوالوں کی
فَنا ہوں حسن والوں کی، بَقا ہوں عشق والوں کی
11
تِری صورت کو میں نے ہی نِشاں اپنا بنایا ہے
کتابِ دل کو میں نے ہی اُمنگوں سے سجایا ہے
12
بَنا کے زینت فانی کی، تِرے دل کو لُبھایا ہے
مگر وہ دل ہی میرا ہے، جسے فانی نہ بھایا ہے
13
کتابِ دل کے حرفوں میں، فَنا بھی ہے، بَقا بھی ہے
اِسی میں مَن عَرَفْ بھی ہے، عَطا بھی ہے رَضا بھی ہے
14
کتابِ دل کا حافظ بن، کہ اِس سے جوگ ملتا ہے
جو بُھولا ہے اِسے واعظ، اُسی کو روگ ملتا ہے

0
3