پھول کے اطراف میں بھونرا پھرے
شمع کے اطراف پروانہ جلے
باغ میں ہر سمت خوشبو کی مہک
آج موسم خوب مستانہ لگے
یار پر قربان کردے اپنی جاں
عشق میں یوں ہو کے دیوانہ مرے
ساقیا یوں آج مجھ کو تو پلا
اب نہ باقی کوئی پیمانہ رہے
جام پیتا جا مسلسل اعتباؔر
آنکھ تیری سب کو میخانہ لگے

2