عجب اک کرب دل پر چھا رہا ہے
سکوتِ شب مجھے ڈستا رہا ہے
زمانے کی ادا ہے تلخ لیکن
لب و لہجہ مرا شُستہ رہا ہے
ہمیشہ ہی نگاہوں میں ہماری
کوئی منظر ادھورا سا رہا ہے
جہاں جس تیز رفتاری میں گم ہے
مرا انداز کچھ ٹھہرا رہا ہے
کوئی حرکت نہ بے چینی نہ اُلجھن
کہ طاری جیسے اک سکتہ رہا ہے
پہنچنا ہے جنوں کی حد پہ لیکن
یہ جذبہ خاک آغشتہ رہا ہے
تعلق بھی عجب شے بن گیا ہے
ہر اک چہرہ یہاں دھندلا رہا ہے
مرے اندر کوئی خاموش دریا
مسلسل ریت سا بہتا رہا ہے
کئی لفظوں نے چاہا تھا بکھرنا
مگر اک درد ہی یکجا رہا ہے
کوئی تو آگہی دل میں اتر جائے
اندھیرا فکر پر چھایا رہا ہے
سفر میں دھوپ تو شامل رہی پر
خیالِ یار بھی سایہ رہا ہے
میں اپنے آپ سے لڑتا رہا ہوں
مرے اندر کوئی اُلجھا رہا ہے
کئی آواز تھیں اطراف لیکن
سکوت اپنا مجھے سنتا رہا ہے

7