| یہ پتھر بھی رو رو کے آنسو بہائیں |
| جو گزری ہے ہم پر اگر وہ سنائیں |
| میں رستہ نکالوں گا پانی کی مانند |
| یہ دریا کے پتھر نہ مجھ کو ڈرائیں |
| میں رہتا ہوں انجان سب جان کربھی |
| یوں جھوٹی تصلی نہ مجھ کو دلایئں |
| مجھے جانا ہوگا بہت دور یاں سے |
| بہت سر پھری ہیں یہاں کی ہوائیں |
| وہی سانپ بن کے ڈسے جاۓ ہم کو |
| جسے بھی ہم اپنے دل میں بساییٔں |
| مدت سے میرے ہے دل کی تمنا |
| کبھی خواب میں آکے وہ مسکراییٔں |
| وہ رنگین لمحوں میں واپس چلیں ہم |
| چلو ناؤ کاغذ کی پھر سے بنائیں |
معلومات