| بے نور دل کو نور کا رستہ انہی سے ہے |
| اور جستجوۓ حق کا وسیلہ انہی سے ہے |
| - |
| عرشِ بریں پہ ذکرِ محمدؐ بلند ہے |
| فرشِ زمیں پہ عشق کا چرچا انہی سے ہے |
| - |
| عارض پہ اُن کے صبحِ ازل کا جمال ہے |
| خورشید کو بھی حسن کا صدقہ انہی سے ہے |
| - |
| حشرِ عظیم آئے تو امیدِ کرم یہی |
| مجرم کی بخششوں کا وسیلہ انہی سے ہے |
| - |
| ہادیؔ کہاں مجال کہ توصیفِ حسن ہو |
| جو کچھ قلم نے لکھا ہے پایا انہی سے |
معلومات