مانگوں دُعائیں جس سے، وہ میرا مُدعا ہے
مانگوں اُسی سے اُس کو، یہ میرا مَشغلہ ہے
دیکھا نہیں ہے اب تک اُس کا حَسین چہرہ
مِعراج کب یہ ہوگی آنکھوں میں وَلولہ ہے
اُس کے وُجود سے ہے سَب کا وُجود قائم
اُس کا وُجود دائم، فانی کو زَلزلہ ہے
گَرچہ بَقا نہیں ہوں پھر بھی جُدا نہیں ہوں
ہَستی حُباب لیکن، اُس کا ہی سِلسلہ ہے
تَنزیہہ بھی اُسی کی، تَشبیہ بھی اُسی کی
یہ عِشق بھی اُسی کا، اُس کا ہی فَلسفہ ہے
جب غیر ہی نہیں ہے تو پھر شریک کیسا
اے فلسفی بتا دے کیا تُجھ کو مَسئلہ ہے
نُورِ مُحمدیؐ ہے رَب کا ظُہورِ اوّل
ناقِص غُلام کا یہ ایمانِ کامِلہ ہے

0
10