مٹ گئی اپنی ہی نظروں میں توانائی کہ بس
اب تو ہونے لگی خود سے بھی شناسائی کہ بس
اس نے دیکھا تھا محبت سے مجھے اک بار اور
پھر نہ لوٹی مرے چہرے کی وہ رعنائی کہ بس
عشق نے کر دیا ٹکڑے مرے پندار کا بت
ایسی کام آئی ہے یہ خاکِ جبیں سائی کہ بس
شہرِ بے مہر کی گلیوں میں بھٹکنے کے بعد
یاد آئی ہے بہت اپنی ہی تنہائی کہ بس
مصلحت اوڑھ کے بیٹھے ہیں سبھی اہلِ خرد
ہم نے دیکھی ہے وہ بازار میں رسوائی کہ بس
جس کو پایا اسے کھونے کا ہنر سیکھ لیا
ہم کو راس آئی ہے منزل کی تمنائی کہ بس
درد کی گہری خموشی نے عجب کام کیا
سننے والوں کو ملی ایسی پذیرائی کہ بس
عقل حیراں تھی کہ مقتل میں ہوا کیا عادل!
موت نے کان میں وہ بات کہی، آئی کہ بس

0
5