نہ جانے کون سا موسم تھا گھر سے جانے تک
میں اور تھا مرے واپس پلٹ کے آنے تک
میں اپنے باپ کی خاموشیاں سمجھ نہ سکا
ابھی تو بچے ہیں، سمجھیں گے میرے جانے تک
میں اپنے عکس سے برسوں خفا رہے ایسے
کہ آئینہ بھی تھکا مجھ کو پھر منانے تک
وہ ایک لفظ جو کہنا بہت ضروری تھا
تمام عمر لگی اُس کو لب پہ لانے تک
میں ایک نام مٹاتا رہا تھا کاغذ سے
وہ دل پہ اور ابھرتا گیا مٹانے تک
یہ اور بات کہ دیوار سن رہی تھی مجھے
میں چیختا ہی رہا شہر کو جگانے تک
میں اپنے سچ کو چھپاتا رہا زمانے سے
زمانہ مجھ میں چھپا تھا اسے بتانے تک
خدا کو ڈھونڈنے نکلا تھا آسماں کی طرف
زمین چھوٹ گئی سر کو پھر جھکانے تک
کسی کی یاد نہیں تھی، فقط خلا تھا ایک
جو میرے ساتھ رہا گھر نیا بسانے تک
ہمیں تو ہارنے کا فن بھی دیر سے آیا
کئی شکستیں ہوئیں خود کو آزمانے تک
جو لوگ نقشِ قدم دیکھ کر چلے تھے مرے
وہ مجھ سے آگے گئے راستہ بنانے تک
ہماری نسل نے بچوں کو پر تو دے ڈالے
مگر وہ گھر نہ رہا لوٹ کر بلانے تک
مجھی میں لوگ یہاں گھر بنا کے بیٹھے تھے
میں خود نہ آ سکا اپنے ہی آشیانے تک
میں اپنے نام سے باہر نکل گیا شاہدؔ
پھر ایک عمر لگی خود میں لوٹ آنے تک

0
5