| کسی کے دل میں اترنے کا گر ، ہنر ہوتا |
| قیام شہر میں اتنا نہ مختصر ہوتا |
| جو اپنے آپ سے ملنے کی جستجو ہوتی |
| زمانے بھر سے بچھڑنے کا پھر نہ ڈر ہوتا |
| چراغ بانٹنے والوں کی یہ نشانی ہے |
| چلے جو بادِ مخالف نہیں اثر ہوتا |
| میں سارے زخم چھپا کر بھی مسکراتا ہوں |
| کسی کی آنکھ میں اے کاش معتبر ہوتا |
| وہ شخص جیت گیا خامشی سے ہی اپنی |
| میں کس سوال پر آمادۂ سِپر ہوتا |
| شجر وہی تھا جو پتھر بھی کھا کے زندہ رہا |
| جو سایہ دیتا تھا کیسے وہ بے ثمر ہوتا |
| میں اپنے لفظ کی حرمت بچا کے لوٹ آیا |
| کسی بھی داد کا حاصل جو پُر خطر ہوتا |
| کسی کو خونچکاں کیسے میں دیکھ سکتا تھا |
| فدا اسی پہ مرا سارا مال و زر ہوتا |
| ہزار لوگ ملے، سب الگ الگ چہرے |
| کسی میں کچھ تو مرا عکس جلوہ گر ہوتا |
| ہر ایک لفظ ، کسوٹی پہ سچ کی ، پرکھا ہے |
| سخن اسی لئے طارِقؔ ، نہیں گہر ہوتا |
معلومات