ہوا نے زخم کو خوشبو میں یوں چھپایا ہے
کسی نے دل کو مرے ، مجھ سے ہی ملایا ہے
ہمیں تو ایک تبسم نے عمر بھر کے لیے
ہزار قلزمِ آلام سے بچایا ہے
عجب اصول ہے اُس کی نگاہِ الفت کا
جو ہار جائے وہ فاتح قرار پایا ہے
چراغ بن کے جلا تو پتہ چلا آخر
دھویں نے راستہ سورج کا ہی بتایا ہے
میں اپنے آپ کو جب بھی تلاش کرنے لگا
سکوت نے ہی مجھے نام سے بلایا ہے
یہ عشق صرف ملاقات کا ہنر ہی نہیں
کہ دل کے فاصلوں کو اس نے ہی گھٹایا ہے
وہ شخص جس نے کبھی خود کو معتبر نہ کہا
اسے زمانے نے معیارِ دل بتایا ہے
کسی نے پوچھ لیا زندگی کی قیمت کیا؟
تو مسکرانے میں اس کا جواب آیا ہے
نہ تخت کی ہے ، نہ ہے تاج کی ہوَس مجھ کو
دلوں کو جیت کے تاجِ شہی کو پایا ہے
مرا ہے تجربہ طارِقؔ یہ زندگانی کا
جو جھک کے رہتا ہے، اس کو بلند پایا ہے

0
4