| رسولِ رحمتِ ربّی سراپا چاہ بھی تھے |
| رہے جو معرکہ آرا وہی پناہ بھی تھے |
| اُٹھایا وقتِ جہاد اُن کے دستِ حق نے عَلَم |
| تو شفقتوں کی دلوں کے لیے نگاہ بھی تھے |
| نہ تیغِ ظلم کی خواہش نہ خون ریزی کی |
| وہ عدل تھے کہ سراپا خدا کی راہ بھی تھے |
| نہ طفل پیر نہ عورت پہ ہاتھ اُٹھنے دیا |
| شجر بھی اُن کی نظر میں سبھی سپاہ بھی تھے |
| اسیرِ جنگ کو بخشا گلے لگایا بھی |
| کہ سب سے بڑھ کے اسی کے وہ خیر خواہ بھی تھے |
| ملی جو فتح نہ لہجے میں انتقام آیا |
| وہ محوِ حمدِ خدا بھی دلوں کی چاہ بھی تھے |
| کسی نے سنگ اُچھالے دعائیں لب پہ رہیں |
| وہ دشمنوں کے لیے اک چراغِ راہ بھی تھے |
| جہاں میں جنگ کو اخلاق کی زباں بخشی |
| وہ دیں کے بادشہ دنیا کے سربراہ بھی تھے |
| خدا گواہ یہی معجزہ تھا حسن ان کا |
| جلال میں بھی سراپا جمالِ شاہ بھی تھے |
| درود ان پہ پڑی ہے نظر جہاں طارِق |
| ہماری زیست کی معراج سجدہ گاہ بھی تھے |
معلومات