پرسشِ غم کا تکلف، محترم! مت کیجیے
زخمِ گریہ تازہ ہے، اسبابِ نم مت کیجیے
خوش بہت ہوں بزم میں تیری چھپا کر زخم کو
فاش میرے مسکرانے کا بھرم مت کیجیے
جھیل سی اس چشمِ نم میں شورِ محشر غرق ہے
اک تبسم پر قیاسِ صد الم مت کیجیے
چارہ گر کیوں چھیڑتا ہے درد رگ رگ کا مِری
اس مسیحائی کے پردے میں ستم مت کیجیے
آبِ زمزم کے بہانے زہر پینے دیجیے
ہاتھ میرا روکنے کا یہ کرم مت کیجیے
جب بھروسہ اٹھ گیا تو پھر گواہی کس لیے؟
درمیاں اپنے خدا کی یہ قسم مت کیجیے
میں خود اپنے آپ سے کٹ کر ہوا ہوں اجنبی
جوڑیے ہستی کو مِری یوں منقسم مت کیجیے
پیاس ایسی ہے کہ دریا بھی پلائیں تو ہے کم
چند قطروں سے مجھے یوں تازہ دم مت کیجیے
پھونکنا ہے، اک ہی پل میں آگ دے دو جسم کو
یاد کی چنگاریوں سے یوں بھسم مت کیجیے
حرفِ حق لکھنا ہے تو پھر دار سے کیسا گریز
مصلحت کے خوف سے یوں چپ قلم مت کیجیے
خانۂ دل میں خدا کی ذات کا مسکن رہے
ماسوا کو اس حرم میں اب صنم مت کیجیے
آخری منزل کھڑی ہے سامنے آغوش وا
روک کر مجھ کو گراں میرے قدم مت کیجیے
درد کی تشہیر سے گرتی ہے قیمت عشق کی
میرے المیرؔ اب یہ گریہ یوں رقم مت کیجیے

0
5