پرسشِ غم کا تکلف، محترم! مت کیجیے
زخمِ گریہ تازہ ہے، اسبابِ نم مت کیجیے
​چارہ گر کیوں چھیڑتا ہے درد رگ رگ کا مِری
اس مسیحائی کے پردے میں ستم مت کیجیے
​جب بھروسہ اٹھ گیا تو پھر گواہی کس لیے؟
درمیاں اپنے خدا کی یہ قسم مت کیجیے
​میں خود اپنے آپ سے کٹ کر ہوا ہوں اجنبی
جوڑیے ہستی کو مِری، یوں منقسم مت کیجیے
​پیاس ایسی ہے کہ دریا بھی پلائیں تو ہے کم
چند قطروں سے مجھے یوں تازہ دم مت کیجیے
​پھونکنا ہے، اک ہی پل میں آگ دے دو جسم کو
یاد کی چنگاریوں سے یوں بھسم مت کیجیے
​حرفِ حق لکھنا ہے تو پھر دار سے کیسا گریز
مصلحت کے خوف سے یوں چپ قلم مت کیجیے
​خانۂ دل میں خدا کی ذات کا مسکن رہے
ماسوا کو اس حرم میں اب صنم مت کیجیے
​آخری منزل کھڑی ہے سامنے آغوش وا
روک کر مجھ کو گراں میرے قدم مت کیجیے
​درد کی تشہیر سے گرتی ہے قیمت عشق کی
میرے المیرؔ! اب یہ گریہ یوں رقم مت کیجیے

0
25