کہی جو بات وہ سچ بھی مگر مانی نہیں جاتی
مرے چھوٹے سے دل کی یہ پریشانی نہیں جاتی
وہ بیٹا ہے میں بیٹی ہوں یہی اک فرق ہے ہم میں
مری قسمت میں ہے پنجرہ واں شیطانی نہیں جاتی
کسی کے آنکھ کا پانی کسی کے دل کی ویرانی
اگر پردے کے پیچھے ہو تو پہچانی نہیں جاتی
وہ آدھے چاند کے چھپنے پہ تاروں کا چمک اٹھنا
یہ منظر بارہا دہکھا پہ حیرانی نہیں جاتی
اسی امید میں تھے ہم کہ دنیا میں سکوں ہوگا
خبر جگ بھر کی رکھتے ہیں پہ نادانی نہیں جاتی
کسی کے دل کو توڑا تھا ہوئی تھی یہ خطا ہم سے
بہت مدت ہوئی لیکن پشیمانی نہیں جاتی
بڑی لمبی چھلاںگیں ہیں بہت اونچے ہیں سب سپنے
مرے پوشیدہ خوابوں کی فراوانی نہیں جاتی

1
63
اعلیٰ خیال اور خوب صورت غزل ۔۔۔مطلع کمال است لکھا ہے ۔ چند ٹائپنگ کی غلطیاں شاید سہو سے ہو گیئیں انھیں دیکھ لیں ۔۔۔
۔۔۔بڑی لمبی چھلاںگیں(چھلانگیں) ہیں بہت اونچے ہیں سب سپنے

منظر بارہا دہکھا( دیکھا ) پہ حیرانی نہیں جاتی

شکریہ

0