| کہی جو بات وہ سچ بھی مگر مانی نہیں جاتی |
| مرے چھوٹے سے دل کی یہ پریشانی نہیں جاتی |
| وہ بیٹا ہے میں بیٹی ہوں یہی اک فرق ہے ہم میں |
| مری قسمت میں ہے پنجرہ واں شیطانی نہیں جاتی |
| کسی کے آنکھ کا پانی کسی کے دل کی ویرانی |
| اگر پردے کے پیچھے ہو تو پہچانی نہیں جاتی |
| وہ آدھے چاند کے چھپنے پہ تاروں کا چمک اٹھنا |
| یہ منظر بارہا دہکھا پہ حیرانی نہیں جاتی |
| اسی امید میں تھے ہم کہ دنیا میں سکوں ہوگا |
| خبر جگ بھر کی رکھتے ہیں پہ نادانی نہیں جاتی |
| کسی کے دل کو توڑا تھا ہوئی تھی یہ خطا ہم سے |
| بہت مدت ہوئی لیکن پشیمانی نہیں جاتی |
| بڑی لمبی چھلاںگیں ہیں بہت اونچے ہیں سب سپنے |
| مرے پوشیدہ خوابوں کی فراوانی نہیں جاتی |
معلومات