جو حق پہ تھے انھیں بجھادیا گیا
پرانے قصوں کو دھرا دیا گیا
بلال تیری مٹی کربلا بنی
ترے لہو کو بھی بہا دیا گیا
وہ روشنی دکھانے کو جو آئےتھے
انہی کو ہی وہاں جلا دیا گیا
جو امن کے تھے نصر اللہ ان کو ہی
یزیدی کربلا دکھا دیا گیا
انہی کو لہو لہو میں فنا کیا
انہی کو کربلا بنا دیا گیا
وہ کون لوگ جو یزید ٹہرے اور
وہ ہم ہیں جن کو یہ صلہ دیا گیا
شہادتوں کا سلسلہ دیا گیا
شہادتوں کا یہ صلہ دیا گیا
وہ مسجدوں میں لہو سے نہائے لوگ
سنو ہمیں ہی کربلا دیا گیا
جو قافلے جھکائے سر امر ہوئے
سنو ہمیں ہی حوصلہ دیا گیا
بلند حوصلہ شہادتوں کا عزم
شہادتوں کا مرحلہ دیا گیا

0
1