کبھی بے وجہ کوئی بات ہنساتی ہے مجھے
کبھی بے نام سی خاموشی رلاتی ہے مجھے
مرے بچوں کی پرانی سی وہ تصویر ابھی
ان کے بچپن کا زمانہ دکھاتی ہے مجھے
چائے کے دو کپ ابھی میز پہ رکھے ہیں مگر
ایک خالی سی جگہ روز ستاتی ہے مجھے
راہ چلتے ہوئے اک شخص نے پانی جو دیا
اس مسافر کی سخاوت تو رلاتی ہے مجھے
رات بھر سوچتا رہتا ہوں کہ کل کیا ہوگا
صبح کی ٹھنڈی ہوا پھر سے جگاتی ہے مجھے
شاہدؔ اب عمر کے اس موڑ پہ محسوس ہوا
ایک بچے کی ہنسی جینا سکھاتی ہے مجھے

0
3