| آؤ مِل کر وزن گھٹائیں، موٹاپے سے جان چھُڑائیں |
| اچھی صِحؔت کا ہے تقاضا، دُبلے پتلے ہم ہو جائیں |
| قبلہ نِیؔت کا ہو سیدھا، راضی ہو گا ہم سے مولا |
| اُس کی عبادت مقصد اپنا، نیک یہ مقصد ہم اپنائیں |
| رب کو پیارا بندہ وہ ہے، کھانا تھوڑا کھاتا جو ہے |
| وزن ہو ہلکا پھُلکا جس کا، ایسا بندہ خود کو بنائیں |
| ایک تہائی پیٹ میں کھانا، ایک تہائی پانی پینا |
| سانس کو دے دو ایک تہائی، پیارے آقا یہ فرمائیں |
| نفس رُکاوٹ سب سے بڑی ہے، زیر کرو گے جیت بڑی ہے |
| اس کے بعد نہ مُشکِل کوئی، کیوں پھر اس سے ہم گھبرائیں؟ |
| سیکھ لو کُچھ باتیں بنیادی، میٹھا سراسر ہے بربادی |
| پھیکی چائے پہلی دواہے، چینی کو تو مار بھگائیں |
| دلیے میں کُچھ شہد مِلا لو، جام بِنا تُم توش بنا لو |
| ناشتہ کر لو سیدھا سادہ، اپنا سارا وقت بچائیں |
| کاجو، پستہ، خُشک وہ میوے، ان کو چبائیں دِھیرے دِھیرے |
| کیلا، سیب، سلاد بھی کھائیں، بیچ میں یُوں ہم بُھوک مِٹائیں |
| آدھا کر دوپہر کا کھانا، ہر صورت ہے اس کو نبھانا |
| بُھون کہ مُرغ اور مچھلی کھائیں، لطف انوکھے اس کے اُٹھائیں |
| اُبلی سبزیاں رنگ برنگی، نیلی پیلی اور نارنجی |
| خوب مزے سے ان کو کھائیں، مرچ نمک ان پر چھڑکائیں |
| رات کا کھانا ایک تہائی، عادت اس کی کر لو بھائی |
| خوب عبادت اُٹھ کر کرنا، وقتِ تہجد مانگ دعائیں |
| قاتل ہیں یہ مُرَغّن کھانے، چھوڑ دو سارے حیلے بہانے |
| دل کا دورہ، فالج، شوگر، ان امراض سے جان چھڑائیں |
| کیا ہی جلیبی کیک مٹھائی، چھوڑ دو کھانا نان خطائی |
| پیزہ، پراٹھے توبہ توبہ، خواب میں بھی ہم ان کو نہ کھائیں |
| پینا ہے تو فقط ہی پانی، چھوڑ دو پیپسی کولا جانی |
| قہوے میں لیموں کے قطرے، خود بھی پئیں اوروں کو پِلائیں |
| بھوک ستائے گی روزانہ، اس کو ہے سینے سے لگانا |
| چربی پگھلے گی ایسے ہی، پیٹ گھٹائیں خوشیاں منائیں |
| لاگت اس میں کُچھ بھی نہیں ہے، جم کی بھی ہاں فِیس نہیں ہے |
| زیرکؔ نُسخہ سستا تیرا، اللہ کرے ہم مول چُکائیں |
معلومات