جاؤ، جا کے کہیں گُم ہو جاؤ
یادِ رفتہ! مجھے یوں مت تڑپاؤ
وقت کا پنچھی جو اُڑ چکا ہے
مجھ کو اب یاد نہ اُس کی دلاؤ
ہو گئے دفن جو سپنے سارے
اُن کی قبروں پہ دیے مت جلاؤ
مشکلوں سے ہے سنبھالا خود کو
تم مرے حوصلے مت آزماؤ
عشق شاید اِسی کو کہتے ہیں
جس کو چاہو اُسی میں کھو جاؤ

0
4