ہوا کے دوش پہ اک خوش گلو یہ گاتا رہا
چراغ اپنے ہی آنسو سے جگمگاتا رہا
میں اپنے شہر میں چہروں کو پڑھ نہیں پایا
ہر ایک شخص جو بہروپ ہی دکھاتا رہا
وہ ایک حرفِ محبت جو لب پہ آ نہ سکا
تمام عمر مرے دل میں گنگناتا رہا
درخت دھوپ میں جلتا رہا مگر دن بھر
وہ اپنے سائے سے اوروں کو تو بچاتا رہا
کبھی تو اپنے مقدر سے آنکھ بھی ملتی
میں آئنوں سے مگر خود کو ہی چھپاتا رہا
یہ اور بات کہ منزل نے کچھ صدا ہی نہ دی
میں اپنے پاؤں سے رستے نئے سجاتا رہا
کسی کے درد کو اپنا سمجھ لیا جس دن
ملا سکوں تو مرا دل بھی مسکراتا رہا
سخن سے مجھ کو نہ مقصود تھی کوئی شُہرت
میں اپنے لفظ کو معنی سے آزماتا رہا
جو اپنی ذات کی دیوار توڑ بیٹھا تھا
وہی زمانے کے دل میں بھی گھر بناتا رہا
اس ایک حرفِ وفا کی تلاش میں طارق
قلم سے عمر بھر اک روشنی اُگاتا رہا

0
12