جَہاں کی سَعادت مِرے مصطفٰی ہیں
خُدا کی قَرابت مِرے مصطفٰی ہیں
جو نُورِ احد کا ہیں اوّل کرشمہ
وہ نُورِ محبت مِرے مصطفٰی ہیں
عَدم چیز کیا ہے، یہ کیا ہیں حوادث
دَوامِ ہُویّت مِرے مصطفٰی ہیں
ہے جن میں جمال و کمالِ ربانی
وہ حُسنِ حقیقت مِرے مصطفٰی ہیں
وہ جلوَۂ یَزداں، وہ جلوہ نُما ہیں
وَجیہُ الْوَجاہت مِرے مصطفٰی ہیں
خُدا نے جَہاں اپنے جلووں کو دیکھا
وہ شیشہ مَلاحت مِرے مصطفٰی ہیں
رِسالت، وِلایت، اِمامت ہے جن کی
وہ شانِ سِیادت مِرے مصطفٰی ہیں
اَحد کا نِشاں ہے لِوائے محمد
ظہورِ جلالت مِرے مصطفٰی ہیں
نہ وہ بُھولے حق کو نہ حق اُن کو بُھولا
اَمینِ صَداقت مِرے مصطفٰی ہیں
نہ سَر کو جُھکایا کسی غیر آگے
مَتینِ مَتانت مِرے مصطفٰی ہیں
وہ نکلے تھے تنہا بُتوں کو مِٹانے
اَمیرِ شُجاعت مِرے مصطفٰی ہیں
سخی اُن کے جیسا جہاں میں نہیں ہے
سَراپا سخاوت مِرے مصطفٰی ہیں
ملی مومنوں کو فِراست جہاں سے
وہ گنجِ فِراست مِرے مصطفٰی ہیں
جِلا اُن سے پاتے سَبھی اَولیا ہیں
قسیمِ کرامت مِرے مصطفٰی ہیں
اُنہی کا ہے صدقہ یہ شَرحِ صُدوری
بشیر و بَشارت مِرے مصطفٰی ہیں
یُصَلُّوْ میں جو رازِ الفت ہے پنہاں
وہ حق کی تلاوت مِرے مصطفٰی ہیں
تَشہد سَلامی ہے رُوحِ نبیؐ کو
ہاں جانِ عبادت مِرے مصطفٰی ہیں
غُلام و مَوالی ہیں جن کے سوالی
وہ دَستِ عنایت مِرے مصطفٰی ہیں
مِرے جان و ایماں ہیں جس کی امانت
وہ کلمہ شہادت مِرے مصطفٰی ہیں
اُنہی کے کَرم سے فقیری ملے گی
کَریمُ النَّجابَت مِرے مصطفٰی ہیں
کِسی کو شفاعت کا کیونکر کہوں میں
مِری تو شفاعت مِرے مصطفٰی ہیں

0
63