چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
تمہاری یاد کے بوجھل، تھکے لمحوں کی دہلیزوں پہ
جو برسوں پڑی ہے گردِ ہجراں کی اداسی سی
اُسے خاموش ہاتھوں سے ذرا ہلکا سا کرتے ہیں
وہی بوسیدہ وعدے جو زمانوں سے بکھر بیٹھے
وہی خاموش آنکھیں جو شکایت تک نہ کہہ پائیں
انہیں پھر روشنی دے کر ذرا آباد کرتے ہیں
چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
تمہیں وہ شام یاد آئے کہ شہرِ خامشی میں جب
اندھیروں سے سبھی بازار سنساں سے رہتے تھے
جہاں ہم نے مقدر کو فقط الزام سمجھا تھا
وہیں سے وقت کی ٹوٹی ہوئی زنجیر جوڑیں گے
وہیں دل کی شکستہ اینٹ سے اک گھر بنائیں گے
چلو پھر زندگی کے سب ادھورے خواب چنتے ہیں
جو بکھرے تھے کسی لمحے کی بے آواز آندھی میں
انہیں پلکوں پہ رکھ کر ہم نیا اک خواب بنتے ہیں
چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
مگر اس بار یہ ہوگا
نہ میں الزام دوں گا وقت کی بے رحم گردش کو
نہ تم تقدیر کے کاغذ پہ آنسو چھوڑ جاؤ گے
اگر رستے میں ہجراں کی کوئی دیوار آ بھی جائے
تو ہم دونوں محبت کی صدا سے توڑ دیں گے وہ
مگر آغاز ایسا ہو
کہ جیسے خشک صحرا میں اچانک چشمہ پھوٹے ہو
کہ جیسے رات کی چھاتی پہ کوئی صبح لکھ دے
کہ جیسے ٹوٹتے دل کو دعا کی روشنی ملتی
ہم اپنے زخم گن لیں گے
وہ زخم جو محبت کی امانت تھے مگر ہم نے
انہیں قسمت کی سازش کہہ کے تنہا چھوڑ رکھا تھا
تم اپنے دکھ سنانا
میں اپنے غم سناؤں گا
اور ان سب تلخ لمحوں کو
محبت کے سمندر میں ڈبو کر بھول جائیں گے
مگر اک خوف دل میں ہے…
کہیں ایسا نہ ہو پھر سے
زمانہ اپنے خنجر لے کے دروازے پہ آ بیٹھے
کہیں ایسا نہ ہو پھر سے
ہماری آنکھ میں اگتی ہوئی امید مر جائے
مگر پھر بھی
چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
اگر اس بار بھی قسمت ہمیں رستہ نہ دے پائے
تو ہم دونوں
محبت کی قسم کھا کر
زمانے کی کتابوں سے الگ اک باب لکھ دیں گے
جہاں بس تم ہو، میں ہوں
اور ہمارے بیچ
وہ سچ ہو
جو دنیا کی کسی تہذیب نے اب تک نہیں لکھا
اگر پھر بھی
یہ دنیا جیت جائے پھر
تو آؤ وعدہ کرتے ہیں
کہ ہم اپنی شکستہ آرزوؤں کی لحد پر
ایک جملہ لکھ کے مر جائیں
"یہاں دو لوگ رہتے تھے
جو اک آغاز کرنا چاہتے تھے پر
زمانہ ان کو اک آغاز کرنے دے نہیں پایا …"

0
13