یہ خونِ بشر عدل کی تصویر نہیں ہے
یہ دینِ خدا باعثِ شمشیر نہیں ہے
جو خونِ مظلوم سے رنگین ہو دامن
وہ فعلِ بشر باعثِ توقیر نہیں ہے
یہ دہشت و وحشت کا سیہ کار قرینہ
ہر طبقہ انساں کی حمایت سے پرے ہے
امواج لہو پر یہ انبار سفینہ
ہر نظریۂ رحم و رعایت سے پرے ہے
بے وجہ و سبب بے خردو فہم یہ افعال
ہر عدل و مروّت سے یکسر ہوئے محروم
بے منزل و بے مقصد و بے رخ یہ پر و بال
نا متفق ان سے ہے ہر اک عالم و مظلوم
یہ دہشت و وحشت یہ تسلط یہ تشدد
یہ مشغلہ و آشوب و آفت و مہمیز
یہ کلمۂ طیب ہے نہ انگشتِ تشہد
یہ گردشِ خوں بار و غم انگیز و جنوں خیز
ہشیار کہ یہ کار خوش انجام نہیں ہے
جو کچھ بھی ہو یہ مذہب اسلام نہیں ہے

6