دلوں کو نورِ محبت عطا کیا کس نے
سدا جہان کو درسِ وفا دیا کس نے
جہاں میں ظلمتِ باطل کا دور دورہ تھا
چراغَ حق کو زماں میں دیا جلا کس نے
یتیم و بے کس و مجبور کی صدا سن کر
ہر ایک درد کو اپنا سمجھ لیا کس نے
نہ انتقام کی خواہش نہ دل میں بغض کوئی
عدو سے عفو کی کر دی تھی انتہا کس نے
غریب جس کے لیے زندگی تھی مشکل تر
اسے بھی صاحبِ عزّت دیا بنا کس نے
وہ فتح جس میں نہ نخوت کا شائبہ نہ غرور
دلوں کو جیتنا ہے کام یہ کہا کس نے
زبانِ حال سے قرآن جس کا تھا کردار
کتابِ حق کو عمل سے دیا دکھا کس نے
نماز صبر سخاوت وفا حیا تقویٰ
بنائے خلق یہی حسن کی بنا کس نے
سکھا دیا کہ ہے انسانیت ہی اصلِ دیں
دلوں میں عشقِ بشر کو دیا جگا کس نے
درود پڑھتے ہی دل کو سکون ملتا ہے
دلوں کو فیضِ محبت عطا کیا کس نے
ہمیں تو شکر گزاری نہ آئی نعمت کی
کرم کا در ہی ہمیشہ رکھا تھا وا کس نے
ہزار جان سے قربان ہو گئے لاکھوں
بشر کو اپنے خدا سے دیا ملا کس نے
درود آپؐ پہ رحمت سلام آپؐ پہ ہو
پیامِ صلح و اماں کا دیا پتہ کس نے
خدا کے بعد کسی اور کا نہیں احساں
ملایا رب سے نبی کے سوا بتا کس نے
سدا یہ سوچ کے بھیجیں درود ہم طارق
شعورِ عشقِ نبی بھی کِیا عطا کس نے

0
7