| مجھے پیار سے جاں ، بلانا کسی کا |
| ہے دل کو لبھاتا ، لبھانا کسی کا |
| کریں منہمک مجھ کو چنچل ادائیں |
| مجھے بھا گیا مسکرانا کسی کا |
| محبت کے اسباق مجھ کو پڑھا کر |
| ہوا خواب ، اب آنا جانا کسی کا |
| حسیں موت ماری ہے تیرِ نظر سے |
| لگا ہے جو دل پر نشانہ کسی کا |
| فقط چاہتا ہوں محبت ہمیشہ |
| نہیں چاہتا میں ، خزانہ کسی کا |
| محبت کی باتیں نہ کرنا کبھی تم |
| میں بھولا نہیں چھوڑ جانا کسی کا |
| تجھے ہر بشر آزمائے گا رہؔبر |
| نہیں ہے ، نہیں ہے زمانہ کسی کا |
معلومات