نہ بچپن لڑکپن جوانی رہی ہے
محبت کہاں اب کہانی رہی ہے
ذرا سا طبیعت میں خم آ گیا ہے
نہ باتیں نہ لہجے روانی رہی ہے
سبھی لوگ اب مطلبی ہو گئے ہیں
نہ رشتوں میں چاہت پرانی رہی ہے
بُھلا کر چلی سارے وعدے وفائیں
جو کل میرے خوابوں کی رانی رہی ہے
یہ سچ ہے کہ حامی کی تم سے بچھڑ کر
نہ اب رات کوئی سہانی رہی ہے

0
4