اس لباس اور اس خوشبو میں یہاں کی لگتی ہی نہیں ہو تم
کون ہو کہاں سے تم آئی ہو لگتی اس جہاں کی نہیں ہو تم
تم خُواب ہو میرا وہم ہو مرا تم یا کہ حقیقت ہو
اجنبی اگر جو ہو تو کیوں لگتی اجنبی نہیں ہو تم
تم حسین اتنی کیسے ہو حسن ایسا کہاں سے پایا ہے
ہور ہو پری ہو کیا ہو تم کہ بنتِ حوا جیسی نہیں ہو تم
سَروِ شوخ رَعْنا تم بے مثال ہو کہ تم سا نہیں کوئی
اڑ رہی فضا میں بادِ صبا کہیں بھی تھمتی نہیں ہو تم
نازنیں بہت دلکش تیری صورتِ مہتاب ہے جانِ جاں
پھول مسکراہٹ سے جھڈتے ہیں گر چہ کچھ کہتی نہیں ہو تم
کیوں نثار نا ہو عشیار کیوں نہ ہو قربان بتا تجھ پر
جبکہ جان سے بڑھ کر پیاری ہو، مگر پھر بھی میری نہیں ہو تم

0
1