| اک آس تھی ملے گا وہ دلدار کی طرح |
| وہ آیا اور رلا گیا ہر بار کی طرح |
| آگے نکل گئے ہیں جو ہمراہ تھے مرے |
| میں راہ میں پڑا رہا لاچار کی طرح |
| مجھ سے نباہ کرتے یہ توفیق تو نہ تھی |
| لیکن جفا نبھائی وفادار کی طرح |
| ایسا نہ تھا کہ کچھ مجھے معلوم ہی نہ تھا |
| پھر بھی کھڑا رہا کسی نادار کی طرح |
| ہو جائیں وہ مکیں کہیں میرا خدا کرے |
| کیوں در بہ در پھرے کوئی عشیار کی طرح |
معلومات