| رقیہ… |
| میں نے تم سے کبھی شور میں بات نہیں کی، |
| میری ساری گفتگو خاموشیوں کی تحریر تھی۔ |
| میں نے ہونٹ نہیں کھولے، |
| مگر دل نے تمہارا نام |
| اتنی بار دہرایا |
| کہ سانس بھی تمہاری امانت لگنے لگی۔ |
| پیار میں شکست کھایا ہوا شخص |
| اور کیا کہہ سکتا ہے |
| سوائے اس کے |
| کہ وہ اب بھی محبت کو غلط نہیں مانتا۔ |
| میں نے چاند کو تمہارا چہرہ کہا، |
| مگر چاند میں داغ تھا۔ |
| میں نے پھول کو تمہاری خوشبو کہا، |
| مگر پھول مرجھا جاتا تھا۔ |
| میں نے ہوا کو تمہاری آہٹ سمجھا، |
| مگر ہوا ٹھہر نہیں سکتی تھی۔ |
| تب میں نے جانا— |
| تم مثال نہیں ہو، |
| تم وہ حقیقت ہو |
| جس کے لیے مثالیں کم پڑ جاتی ہیں۔ |
| رقیہ… |
| عشق کیا ہے؟ |
| عشق وہ آگ ہے |
| جو جلائے بھی اور روشنی بھی دے۔ |
| عشق وہ قید ہے |
| جس میں گرفتار ہو کر |
| آدمی آزاد ہو جائے۔ |
| عشق وہ سوال ہے |
| جس کا جواب مل بھی جائے |
| تو تشنگی باقی رہے۔ |
| عشق وہ زخم ہے |
| جو بھر جائے |
| مگر نشان باقی رکھے۔ |
| عشق وہ ہار ہے |
| جو انا کو توڑ دے |
| اور دل کو وسیع کر دے۔ |
| عشق وہ صبر ہے |
| جو وقت سے لمبا ہو جائے۔ |
| عشق وہ خاموشی ہے |
| جو چیخ سے زیادہ بلند ہو۔ |
| عشق وہ دعا ہے |
| جو قبول نہ ہو |
| پھر بھی لبوں سے اترے نہیں۔ |
| عشق وہ نسبت ہے |
| جو فاصلے سے کمزور نہیں ہوتی۔ |
| عشق وہ یقین ہے |
| جو ثبوت کا محتاج نہیں ہوتا۔ |
| عشق وہ درد ہے |
| جو شکایت میں تبدیل نہیں ہوتا۔ |
| عشق وہ تسلیم ہے |
| جو اختیار چھین کر بھی |
| رضا سکھا دے۔ |
| اور رقیہ… |
| میں نے یہ سب |
| تمہارے نام پر سیکھا ہے۔ |
| میں نے ہزار بار |
| دل کی بیڑیاں توڑنے کی کوشش کی، |
| مگر ہر بار |
| اپنے ہی وجود سے لہو بہتا دیکھا۔ |
| تب سمجھ آیا— |
| یہ بیڑیاں قید نہیں، |
| یہ میری پہچان ہیں۔ |
| تم نہیں ہو |
| مگر تمہاری محرومی |
| میری زندگی کا مستقل موسم بن گئی ہے۔ |
| میں اکثر سوچتا ہوں— |
| عشق اتنا دشوار کیوں ہوتا ہے؟ |
| پھر دل جواب دیتا ہے— |
| کیونکہ عشق آسان ہو جائے |
| تو وہ خواہش رہ جاتا ہے، |
| محبت نہیں۔ |
| رقیہ… |
| میں تمہیں مجبور نہیں کرتا، |
| میں تمہیں پکار بھی نہیں رہا، |
| میں صرف یہ لکھ رہا ہوں |
| کہ جو کچھ ہے |
| سچ ہے۔ |
| اگر تم کبھی لوٹو |
| تو یہ جان کر لوٹنا |
| کہ میں نے تمہیں |
| کسی شرط، کسی ضد، کسی جبر کے بغیر چاہا تھا۔ |
| اور اگر تم نہ بھی لوٹو |
| تو یہ جان کر جانا |
| کہ ایک دل |
| تمہارے نام کی روشنی میں |
| ہمیشہ جلتا رہے گا۔ |
| کیونکہ سچا عشق |
| حاصل سے نہیں، |
| اخلاص سے زندہ رہتا ہے۔ |
معلومات