| ترا خیال بھی دل میں نہیں ہے تو بھی نہیں |
| کہ تجھ سے وصل تو اب میری آرزو بھی نہیں |
| مرا خیال مرے چارہ گر کو اب آیا |
| کہ جب مجھے تو کوئی حاجتِ رفو بھی نہیں |
| جنونِ عشق سے طاری ہوئی وہ کیفیت |
| کہ صد دریغ مجھے فکرِ آبرو بھی نہیں |
| ترے ہی ذکر سے آغاز تو ہی تھا انجام |
| پر اب تو تُو مرا موضوعِ گفتگو بھی نہیں |
| رقم تو کر دی غزل پر، سناؤں کیسے اسے |
| وہ نغمہ سنج ہے اور میں تو خوش گلو بھی نہیں |
| طلسم ِحسن رخِ یار کا وہ عالم ہے |
| کہ ان کا مثل تو کیا ان سا خوبرو بھی نہیں |
| میں اس کےمصحفِ عارض کو کیسے چھو لوں تقیؔ |
| کہ ضبط ہوش نہیں مجھ میں اور وضو بھی نہیں |
معلومات