ترا خیال بھی دل میں نہیں ہے تو بھی نہیں
کہ تجھ سے وصل تو اب میری آرزو بھی نہیں
مرا خیال مرے چارہ گر کو اب آیا
کہ جب مجھے تو کوئی حاجتِ رفو بھی نہیں
جنونِ عشق سے طاری ہوئی وہ کیفیت
کہ صد دریغ مجھے فکرِ آبرو بھی نہیں
ترے ہی ذکر سے آغاز تو ہی تھا انجام
پر اب تو تُو مرا موضوعِ گفتگو بھی نہیں
رقم تو کر دی غزل پر، سناؤں کیسے اسے
وہ نغمہ سنج ہے اور میں تو خوش گلو بھی نہیں
طلسم ِحسن رخِ یار کا وہ عالم ہے
کہ ان کا مثل تو کیا ان سا خوبرو بھی نہیں
میں اس کےمصحفِ عارض کو کیسے چھو لوں تقیؔ
کہ ضبط ہوش نہیں مجھ میں اور وضو بھی نہیں

0
2
10
اچھی غزل ہے

بہت شکریہ سر

0