کیا تماشا بنائے رکھا ہے
آئنہ منہ چھپائے رکھا ہے
وہ جو شعلے تھے بجھ گئے آخر
اک دھواں ہے دبائے رکھا ہے
شوخ یادوں کا شب نشین چراغ
کس تھکن نے بجھائے رکھا ہے
خرچ ہوتا ہوں روز جتنا ہوں
کون کتنا بچائے رکھا ہے
زندگی روز یوں سوال کرے
کیوں خسارہ اٹھائے رکھا ہے
تیرا ہر رنگ تتلیوں نے مری
بارشوں میں نہائے رکھا ہے
ترس کھاتا ہوں آپ اپنے پر
خود کو اتنا ستائے رکھا ہے
خاک اپنی اڑا علی شؔیدا
راستہ جو دکھائے رکھا ہے

0
6