| حسرتوں کو کیوں بھلا ہر بار ہم رسوا کریں |
| کب تلک تنہا شجر کی چھاؤں میں بیٹھا کریں |
| کتنی شامیں ہم گزاریں انتظارِ یار میں |
| بن ترے اک پل بھی ہم نا چین پائیں کیا کریں |
| لوگ کہتے ہیں ہمیشہ سچ بتائیں آئینے |
| ہم جو دیکھیں آئینے، کیوں تم کو دکھلایا کریں |
| اپنے ہاتھوں اپنی دنیا کر چکے برباد ہم |
| اس خطا کا مطلبی دنیا سے کیا چرچا کریں |
| کتنے طوفانوں سے بچ کے جب کنارے آ گئے |
| منتظر کوئی نہ تھا، ساحل سے کیا شکوہ کریں |
| ہم نے مانا عشق میں ہر بات سہنی ہے مگر |
| دل کو آخر کس طرح ہر بار سمجھایا کریں |
| پھول کے شکوے بجا، لیکن ذرا سن اے کنولؔ |
| خار ہیں فطرت سے عاری کیا کریں کیا نا کریں |
معلومات