انہی کے داغ سب دھوئے ہوئے ہیں
جو اپنی ذات میں کھوئے ہوئے ہیں
قیامت بار ہا آتی رہی ہے
نہیں جاگے ابھی سوئے ہوئے ہیں
ہوا اعلان رقصِ آخری کا
یہ حضرت کیف میں کھوئے ہوئے ہیں
ذرا آرام سے گزریں یہاں سے
یہاں پر خواب کچھ بوئے ہوئے ہیں
بہت ہے صاف منظر آج باہر
یقیناً دیر تک روئے ہوئے ہیں
زوالِ مرتبہ اور وہ بھی ایسا
"حضورِ والا" سے " اوئے" ہوئے ہیں

0
9