دل ہے نعلِ نبی سے وابستہ
نور ہے زندگی سے وابستہ
نعلِ پاکِ نبی سے دل جڑ کر
رہتا ہے تازگی سے وابستہ
عشقِ احمد ہے کیا شعورِ حق
جو کہ ہے عاشقی سے وابستہ
دل کو حاصل رہے شعورِ نبی
ہے جبھی روشنی سے وابستہ
عشقِ احمد شعورِ مطلق ہے
عشق ہو بس اِنہی سے وابستہ
نورِ احمد ہے عرش والے کا
اور ہے آدمی سے وابستہ
عشقِ احمد ہے لا پتہ کا پتا
پہلے ہو بندگی سے وابستہ
جوڑنے نورِ حق سے بس احمد
ہو گئے امّتی سے وابستہ
ذکرِ احمد ہے سانس میں جاری
ہیں نبی بانسری سے وابستہ
نورِ احمد سے ہے احد ظاہر
ہو کبھی آگہی سے وابستہ
ظاہراً تو نبی سے دوری ہے
روح ہے باطنی سے وابستہ
دید بازوں نے دیدِ حق پایا
جلوۂ احمدی سے وابستہ
جابجا تن میں نورِ احمد ہے
دیکھ، ہو انفسی سے وابستہ
اَشھدُ اَن محمداً کہنے
خود میں ہو شاہدی سے وابستہ
دل میں رہتے ہیں، علم دیتے ہیں
ہیں نبی خامُشی سے وابستہ
دل میں بے شک حضور حاضر ہیں
ہو زرا حاضری سے وابستہ
روکتے ہیں نبی برائی سے
رہنا اس رہبری سے وابستہ
احمدِ پاک ہیں خدا کے لئے
اس خودی بے خودی سے وابستہ
جس گھڑی دل کو حق کیا پیدا
ہے نبی سے تبھی سے وابستہ
ہر لطیفہ خدا کا ہے بندے
اِن کی موجودگی سے وابستہ
سرِّ آدم خدا، نبی سے ہے
ان کی وابستگی سے وابستہ
بَشْرِ اوّل کا دل ازل سے ہے
اس نبی آخری سے وابستہ
غیب دانی دکھی مدینے میں
جب بوئی اوٹنی سے وابستہ
سارے عالم کو ہیں نبی رحمت
علم رکھ اختری سے وابستہ
اپنا کلمہ نبی پڑھا کے کئے
ذاتِ حق اکبری سے وابستہ
سارا عالم ہے نورِ احمد سے
جو نہیں تیرگی سے وابستہ
احمدِ پاک دوست جس کو رکھیں
حق ہے اس دوستی سے وابستہ
جڑ کے احمد سے زندگی اپنی
ہو گئی ہے خوشی سے وابستہ
نعتِ احمد کے گنگنا نے سے
دھن ہوئی چاشنی سے وابستہ
نعتِ پاکِ نبی سدا رہنا
میری تشنہ لبی سے وابستہ
یادِ احمد میں دل دھڑکتا ہے
قلب ہے موسقی سے وابستہ
اپنے جلوے کو یا نبی رکھیے
دل کی اس پالکی سے وابستہ
مصطفیٰ جو کہ شاۂ عالم ہیں
ہیں مری جھونپڑی سے وابستہ
شاۂ ہر دو جہاں نبی ہو کر
ہم سے ہیں سادگی سے وابستہ
ہوگئے جو غلام احمد کے
وہ ہوئے سروری سے وابستہ
شہ، نبی کے غلام بن کر بھی
رہتے ہیں عاجزی سے وابستہ
دن کو یادِ نبی رہی دل میں
رات کو چاندنی سے وابستہ
اے خدا یا ہمیں نبی کی اس
رکھنا تو نوکری سے وابستہ
اصلِ مرشد ہے نور احمد کا
جو ہے مولیٰ علی سے وابستہ
یا نبی وقتِ مرگ جلوہ دیں
ہے دعا رخصتی سے وابستہ
عشقِ احمد نے اے ذکؔی ہم کو
کر لیا شاعری سے وابستہ

0
3