| زندگی کی الجھن میں جانے کیا گواں بیٹھے |
| جستجو میں ہم ان کی خود کو ہی بھلا بیٹھے |
| بادلوں کے حصے میں تشنگی سمندر کی |
| درد سب زمانے کے دل میں میرے آ بیٹھے |
| آسماں کی چاہت میں خاک بس اٹھا لائے |
| چاند پر پہنچنا تھا پنکھ ہی جلا بیٹھے |
| اس جہان فانی میں بندگی بھی مشکل ہے |
| ہر طرف ہیں بت باطل ہر طرف خدا بیٹھے |
| زندگی کی شامیں جب ڈھل گئی اندھیروں میں |
| ہم نفس سبھی میرے روشنی میں جا بیٹھے |
| دفن کر دیا مجھ کو ہائے کتنی عجلت میں |
| اور پھر فراغت سے محفلیں سجا بیٹھے |
معلومات