دل میں اک خوابِ حسیں بے تاب سا پلتا رہا
حسن اس کا وقت کے ہاتھوں سے پر ڈھلتا رہا
ایک چہرہ تھا کہ آنکھوں سے کبھی اوجھل نہ تھا
ایک موسم تھا کہ دھڑکن میں سدا چلتا رہا
میں نے پتھر سے بھی پوچھا کس لیے خاموش ہو
چشمہ پھوٹا اس کے دل سے ہاتھ میں مَلتا رہا
شہر میں سب لوگ اپنے اپنے چہروں میں رہے
آئینہ تنہا تھا لیکن عکس میں ڈھلتا رہا
جس کو دنیا نے سمجھ رکھا تھا اک فردِ نحیف
وہ زمانے کے ارادوں سے سوا چلتا رہا
عشق نے مجھ کو کوئی منزل نہ دی لیکن رقیب
مونگ سینے پر مرے ہر آن ہی دلتا رہا
میں کہ تھا معصوم عائد مجھ پہ سب الزام تھے
دوسروں کا جرم میرے سر پہ کیوں ڈلتا رہا
زندگی شکووں میں گزری راز آخر کھل گیا
آدمی کب جان پایا کیا کہاں ٹلتا رہا
میں نے جب لفظوں میں ڈھالا اپنے دل کا اضطراب
خامشی کا ایک دریا شعر میں ڈھلتا رہا
شب تھی لمبی جس قدر تھی صبح اتنی ہی قریب
تیرگی میں ایک ننھا سا دیا جلتا رہا
طارق اس شہرِ طلب میں کس کو فرصت ہے مگر
دل کسی گمُنام آشا پر مگر چلتا رہا

0
5